Chat to Order
مون سون کا موسم پھل دار درختوں کے لیے اہم ہوتا ہے۔ بارش سے مٹی میں نمی بڑھتی ہے اور درختوں کو قدرتی طور پر پانی ملتا ہے۔ اس موسم میں درخت تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، لیکن زیادہ بارش، پانی کا جمع ہونا، نمی اور کیڑے پودوں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے مون سون کے دوران پھل دار درختوں کی مناسب دیکھ بھال ضروری ہے۔ چند آسان اقدامات اپنا کر درختوں کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے اور بہتر پھل حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مون سون میں سب سے اہم بات درختوں کے اردگرد پانی جمع نہ ہونے دینا ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے مٹی میں ضرورت سے زیادہ پانی جمع ہو سکتا ہے، جس سے جڑوں کو ہوا نہیں ملتی۔ اس سے جڑیں کمزور ہونے اور سڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
درخت کے اردگرد مٹی کو اس طرح رکھیں کہ اضافی پانی آسانی سے باہر نکل سکے۔ اگر باغ یا گملے میں نکاسی آب کا مسئلہ ہے تو مناسب راستہ بنائیں۔ گملوں میں موجود پھل دار پودوں کے لیے یہ بھی دیکھیں کہ ان کے نیچے سوراخ بند نہ ہوں۔
مون سون سے پہلے یا موسم کے آغاز میں غیر ضروری، خشک اور بیمار شاخوں کی کٹائی مفید رہتی ہے۔ ایسی شاخیں درخت کی توانائی ضائع کرتی ہیں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
بہت زیادہ گھنی شاخیں بھی کم کریں تاکہ درخت کے اندر ہوا کا گزر بہتر رہے۔ اچھی ہوا کی آمدورفت نمی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور پھپھوندی جیسی بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، صحت مند شاخوں کی غیر ضروری کٹائی سے گریز کریں۔
بارش کے دوران مٹی میں نمی پہلے ہی کافی ہوتی ہے، اس لیے ہر روز درخت کو پانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پانی دینے سے پہلے مٹی کو دیکھیں۔ اگر مٹی پہلے سے گیلی ہے تو اضافی پانی دینے سے جڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اگر مٹی بہت زیادہ سخت ہو گئی ہو تو اسے احتیاط سے ڈھیلا کیا جا سکتا ہے تاکہ پانی مناسب طریقے سے جذب ہو اور جڑوں تک ہوا پہنچ سکے۔ البتہ جڑوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے مٹی کو بہت گہرائی تک نہ کھودیں۔
مون سون میں درختوں کی نشوونما تیز ہو سکتی ہے، اس لیے مناسب غذائیت اہم ہے۔ پودے کے سائز اور قسم کے مطابق اچھی طرح تیار شدہ نامیاتی کھاد یا کمپوسٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کھاد کو تنے کے بالکل ساتھ رکھنے کے بجائے اس کے اردگرد مٹی میں مناسب فاصلے پر شامل کریں۔ تازہ گوبر یا غیر تیار شدہ نامیاتی مواد براہ راست جڑوں کے قریب ڈالنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ جڑوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مون سون میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے کیڑوں اور پھپھوندی کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ پتوں، شاخوں اور پھلوں کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔ اگر پتوں پر دھبے، غیر معمولی رنگت، سوراخ یا کیڑے نظر آئیں تو فوری توجہ دیں۔
گرتے ہوئے اور خراب پھلوں کو درخت کے نیچے جمع نہ ہونے دیں۔ انہیں ہٹا کر مناسب طریقے سے تلف کریں۔ باغ کو صاف رکھنے سے بعض کیڑوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بارش کے دوران تنے کے گرد مسلسل نمی رہنے سے بعض مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے درخت کے تنے کے ساتھ پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ گھاس اور غیر ضروری جڑی بوٹیوں کو بھی باقاعدگی سے صاف کریں۔
اگر درخت کے تنے پر زخم یا کٹ لگا ہوا ہے تو اس پر خاص توجہ دیں۔ بیمار یا خراب حصے کو نظر انداز کرنے کے بجائے مقامی ماہرِ باغبانی سے مناسب علاج کے بارے میں مشورہ کریں۔
درختوں کے اردگرد ملچ کی مناسب تہہ مٹی کی نمی برقرار رکھنے، جڑی بوٹیوں کو کم کرنے اور مٹی کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، مون سون میں بہت موٹی ملچ کی تہہ نقصان دہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے ضرورت سے زیادہ نمی برقرار رہ سکتی ہے۔
ملچ کو درخت کے تنے سے تھوڑا فاصلے پر رکھیں۔ تنے کے ساتھ ملچ کا ڈھیر نہ بنائیں، کیونکہ مسلسل نمی کی وجہ سے تنے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اگر پھل دار پودے گملوں میں لگے ہیں تو مون سون میں ان پر خاص توجہ دیں۔ گملے ایسی جگہ رکھیں جہاں انہیں روشنی اور ہوا ملتی رہے، لیکن مسلسل تیز بارش سے ضرورت کے مطابق بچایا جا سکے۔
گملے کے نیچے نکاسی آب کے سوراخ ضرور چیک کریں۔ اگر پانی مسلسل جمع ہو رہا ہے تو گملے کو ایسی جگہ منتقل کریں جہاں اضافی پانی آسانی سے نکل سکے۔
اگر آپ اپنے پھل دار درختوں اور باغ کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو Gulab.pk، پاکستان کی بہترین آن لائن پلانٹ نرسری سے پودے، بیج اور معیاری کھاد خریدیں۔ چاہے آپ نیا باغ شروع کر رہے ہوں یا موجودہ پودوں کی بہتر دیکھ بھال کرنا چاہتے ہوں، Gulab.pk پر باغبانی کی ضروری اشیا آسانی سے حاصل کریں اور اپنے گھر کو مزید سرسبز بنائیں۔